Tuesday, December 26, 2023

سوال : دس سے پندرہ سال کی عمر کے لڑکوں میں بلوغت کے دوران تبدیلیاں - والدین انہیں کیا بتائیں؟

 👈سوال: دس سے پندرہ سال کی عمر کے لڑکوں میں بلوغت کے دوران تبدیلیاں - والدین انہیں کیا بتائیں؟



⬅️ جواب:

  بچوں کو ان کے دور کے مطابق صحیح معلومات دینا والدین کا فرض ہے کیونکہ جو بات اس عمر میں والدین خود سمجھاتے ہیں اس کا اثر ساری عمر رہتا ہے۔


ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بیٹوں سے بات کرتے ہوئے جھجھکتے ہیں اور بعض اوقات بلوغت کے وقت بہت سی عام سمجھانے والی باتیں نہیں سمجھا پاتے۔ اس وجہ سے بچے عام طور پر اپنے دوستوں ، محلے کے لڑکوں، کزنز یا موبائل اور کمپیوٹر سے بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں جو ان کے لئے معلومات کا ذریعہ تو بن سکتا ہے لیکن تربیت کا نہیں۔


 کئی ایسے بچے ہوتے ہیں جو صرف اپنی والدہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ والد کام کے سلسلے میں یا کسی وجہ سے دور رہتے ہیں، اوور سیز ہوتے ہیں یا حیات نہیں ہوتے۔ ان ماؤں کو بہت مشکل ہوتی ہے کہ بچے سے کیا بات کی جائے اور کیا نہیں۔ 


⬅️ چونکہ ہر بچہ منفرد ہے اس لئے اسے سمجھانے کی عمر اور وقت بھی مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لئے آپ اپنے بیٹوں کو ان کی عمر اور سمجھ کے مطابق سمجھائیں۔


 آج کل کے والدین کے لئے ایک بات جاننا بہت ضروری ہے کہ چاہے آپ کے بیٹے کے پاس موبائل ہے یا نہیں ، وہ دس سال کی عمر میں ایسا بہت کچھ جانتا ہو گا جو شاید آپ اس عمر میں نہ جانتے ہوں۔ آج کل کا دور وہ نہیں رہا جو کچھ سال پہلے تھا ۔ ہمیں اپنے بچے کو اس کے دور کے حساب سے تیار کرنا چاہیے نہ کہ اپنے دور کے حساب سے۔ 


⬅️ بلوغت کے وقت بچوں کو کیا سمجھایا جائے؟


• جسمانی تبدیلیاں 

•جذباتی تبدیلیاں

• سوچ کی تبدیلیاں 

• سوشل میڈیا کا استعمال 

• اپنی نظر کی حفاظت

• حلال اور حرام میں تفریق

• جسم کی حفاظت

• دوسرے آپ سے محفوظ ہوں

• احساس ذمہ داری اور خودداری


⬅️ جسمانی تبدیلیاں 


 کچھ بچوں میں یہ تبدیلیاں نسبتا پہلے بھی شروع ہو سکتی ہیں اور کچھ میں دیر سے - دونوں نارمل ہیں۔ بچوں کو آنے والی تبدیلیوں کا وقت سے کچھ پہلے پتہ ہونا انہیں بہت سی پریشانیوں سے بچاتا ہے۔


• تقریباً 10 سے 12 سال: 


بیرونی جنسی اعضاء (عضو تناسل، خصیے اور سکروٹم) بڑھنے لگیں گے۔ ایک ٹیسٹس کا دوسرے کے مقابلے میں تیزی سے بڑھنا معمول ہے اور عام طور پر ایک سائز کا نہ ہونا نارمل ہے۔ زیر ناف بال اگنا شروع ہو جائیں گے۔ بچوں کو ان کی صفائی کے بارے میں بھی بتائیں۔


• تقریباً 12سے 14 سال:


آپ کے بچے کی نشوونما میں تیزی آئے گی۔ آپ کے بچے کا قد تیزی سے لمبا گا۔ اس کا سینہ اور کندھے چوڑے ہو جائیں گے۔ پٹھے بڑھنا شروع ہوں گے ۔آپ کے بچے کے جسم کے کچھ حصے جیسے ان کا سر، چہرہ اور ہاتھ ان کے اعضاء اور دھڑ سے زیادہ تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچہ تھوڑے عرصے کے لیے غیر متناسب نظر آ سکتا ہے۔ عام طور پر 18-20 سال کی عمر میں قدم بڑھنا بڑھنا رک جاتا ہے۔ لڑکوں کے لیے چھاتی کا معمولی سا بڑھنا عام بات ہے۔ اگر آپ کا بچہ اس وجہ سے پریشان لگے، تو اسے بتائیں کہ یہ عام طور پر خود ہی چلا جاتا ہے۔ اگر یہ دور نہیں ہوتا تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ 


• تقریباً 13-15 سال:

 آپ کے بچے کے جسم کے دوسرے حصوں پر بال اگنا شروع ہو جائیں گے جیسے کہ بغلوں، چہرے پر اور جسم کے باقی حصوں پر۔ ٹانگوں اور بازوؤں کے بال گھنے ہو جائیں گے۔ کچھ لوگوں کے بال 20 کی دہائی میں بھی اگتے ہیں۔

 آپ کے بچے انزال کو ہونا شروع ہو سکتا ہے۔ اپنے بچے کو بتائیں کہ یہ عام بات ہے اور کوئی فکر والی بات نہیں ہے۔ یہ اس کے بڑے ہونے کی علامات ہیں اور بارمل ہے ۔ اسے نیند کے دوران انزال/احتلام کے بارے میں سمجھائیں کہ ایسا ہو سکتا ہے اور یہ نارمل ہے۔ بچے کو غسل کے احکامات کے بارے میں بھی بتائیں۔


بچے کی آواز میں تبدیلی آتی ہے اور وہ بھاری ہونا شروع ہوتی ہے ۔ کبھی کبھار آواز عجیب لگ سکتی ہے ۔ یہ وقت کے ساتھ ساتھ خود بخود ٹھیک ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے گھبرانے والی بات نہیں ہوتی۔


⬅️ جذباتی تبدیلیاں 


• بچے دس گیارہ سال کی عمر کے بعد اپنی بات منوانا چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے میں صحیح ہوں ، مجھے پتہ ہے۔ اس عمر میں بحث بھی کرتے ہیں اور "تم بد تمیز ہو رہے ہو" جیسے الفاظ اکثر سننے کو ملتے ہیں۔ یہ سب نارمل ہے ۔ کوشش کریں کہ انہیں پیار سے سمجھائیں کہ بحث کے دوران انہیں اپنی بات صحیح لگے تو دوسرے کے سامنے خاص طور پر بڑوں کے سامنے اپنا موقف اچھے الفاظ میں رکھیں۔ بچے بحث کریں تو ان سے تحمل سے بات کریں۔


⬅️ نظر کی حفاظت

بچے کو بتائیں کہ آپ کا دھیان دوسرے لوگوں کے چہرے یا جسم کی طرف جا سکتا ہے ، انہیں تجسس ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کو یہ ذہن میں رکھنا ہے کہ کسی کے جسم کی طرف دیکھنا گناہ ہے۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر کبھی کسی ایسے لنک پر مت کلک کریں جہاں کوئی بھی اس قسم کی چیز موجود ہو۔ خدا ہر جگہ ہر وقت آپ کو دیکھ رہا ہے۔


⬅️ سوچ کی حفاظت

بچے کو بتائیں کہ آپ کے ذہن میں موویز، گانے، سوشل میڈیا اور سکول سے بہت سی باتیں دیکھ اور سن کر خیالات آ سکتے ہیں۔ دوست یا کوئی بھی اور لوگ آپ سے لڑکیوں کے بارے میں بات چیت کرتے ہیں یا آپ کو تجسس ہو سکتا ہے ۔ یہ نارمل ہے لیکن آپ کو جو بھی پوچھنا ہو والدین سے پوچھیں۔ 

اگر کوئی دوست بتاتا ہے کہ میری فلاں لڑکی سے دوستی ہے یا میں نے کسی کے ساتھ کیا بات کی، کہاں گیا ، کیا کیا ، تو اسے اگنور کریں اور اس سے امپریس ہونے کی بجائے یہ یاد رکھیں کہ ایسی کسی چیز کی خدا نے ہمیں اجازت نہیں دی۔ اپنا وقت فضول باتیں سوچنے اور کرنے میں ضائع مت کریں۔


⬅️ سوشل میڈیا کا استعمال


اگر بچہ سوشل میڈیا استعمال کرتا ہے تو اس کی کئی اجنبی لوگوں سے بات چیت ہو سکتی ہے، جیسے کہ گیمز کھیلتے ہوئے ، سکول کے دوستوں کے ذریعے یا مختلف گروپس یا چیٹ رومز میں۔ انہیں بتائیں کہ سوشل میڈیا کا فضول استعمال نہ کریں۔ انہیں محتاط رہنا سکھائیں۔اگر اجنبی لوگوں میں سے کوئی شخص کہیں ملنے کے لئے بلائے تو آپ نے نہیں جانا بلکہ پہلے اپنے والد یا والدہ کو بتانا ہے۔ اگر ملنا بہت ضروری لگے تو انہیں اپنے گھر بلا لیں ۔ ان کے لئے آپ اہم ہوں گے تو وہ آپ کے گھر ضرور آئیں گے۔


• سوشل میڈیا پر اگر کوئی آپ سے آپ جسم کے کسی بھی حصے کی تصویر مانگتا ہے یا آپ کو کوئی ایسی تصویر بھیجتا ہے تو والدین کو ضرور بتائیں، سکرین شاٹ لیں اور اس شخص کو بلاک کر دیں۔ انہیں کسی بھی قسم کا کوئی بھی ریپلائی دینے کی ضرورت نہیں۔ جن ایپس پر چیٹ غائب ہو جاتی ہے ، وہ بھی آپ کے لئے محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا استعمال کرتے ہوئے احتیاط برتیں۔ جن لوگوں کو آپ جانتے نہیں، ان سے روابط مت بڑھائیں۔


⬅️ حلال اور حرام تعلقات میں فرق:


بچے کو حلال اور حرام میں فرق سمجھائیں۔اس عمر میں ان کی دلچسپی لڑکیوں میں نظر آ سکتی ہے۔ انہیں بتائیں کہ جب وہ بڑے ہوں گے تو ان کی شادی کر دی جائے گی۔ ابھی ان کی پڑھائی کی عمر ہے ، اس لئے پڑھائی پر توجہ دیں۔ اگر ان کے ذہن میں کسی کے لئے کوئی خیالات آتے ہیں تو وہ والدین سے شیئر کر سکتے ہیں۔ والدین کو پتہ ہونا چاہیئے کہ بچوں میں آج کل اس عمر کی 'ناکام محبتیں' بہت عام ہیں۔ اس لئے بچوں سے دوستانہ ماحول میں ان کے دوست اور سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ انہیں فزیکل ایکٹیویٹیز اور گیمز کھلائیں۔ ہر وقت موبائل اور وڈیو گیمز ٹھیک نہیں۔


⬅️ جسم کی حفاظت


 اپنی ذاتی صفائی ، ناخن اور دانتوں کی صفائی کے بارے میں بتاتے رہیں۔ اس عمر میں پسینے کی بو آنا شروع ہو جاتی ہے ، اس لئے انہیں باقاعدگی سے نہانے اور ڈی اوڈرینٹ سپرے لے کر دیں ۔ 

انہیں بتائیں کہ اگر کبھی احتلام ہو تو انہیں اپنے کپڑے خود صاف کرنا آنا چاہیے۔ بہت سے بچے گندے کپڑے اتار کر والدہ یا کپڑے دھونے کے لئے جو بھی آئیں ، ان کے لئے چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں اس قسم ذاتی چھوٹے چھوٹے کام کرنا ضرور سکھائیں۔ 

اس عمر میں بچے خود کو بنانا سنوارنا شروع کرتے ہیں۔ انہیں حسب استطاعت ان کی پسند کی چیزیں لے کر دیں تا کہ وہ خواہ مخواہ دوسروں سے امپریس نہ ہوں۔ آپ کا بچہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

انہیں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا سکھائیں جو ان کا جنسی استحصال کر سکتے ہوں۔ ہمارے ملک میں جتنا بیٹی غیر محفوظ ہے اس سے زیادہ بیٹے غیر محفوظ ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ وہ بھی بتاتے ہوئے گھبراتے ہیں اور اکثر کچھ بتا بھی نہیں پاتے ۔ اس لئے وقتا فوقتا ان سے اس بارے میں بھی بات کریں۔


⬅️ دوسرے آپ سے محفوظ ہوں


انہیں بتائیں کہ کبھی کسی کا مذاق مت اڑائیں۔ اس عمر میں دوستوں کے ساتھ مل کر گروپس بنا کر دوسروں کو تنگ کرنا مزے کا کام لگ سکتا ہے ، ایسا ہرگز مت کریں۔ دوسروں کو الٹے سیدھے ناموں سے مت بلائیں نہ ہی کسی کا نام رکھیں۔ کسی کو بھی غیر شائستہ نا قابل قبول میسجز نہ کریں نہ ہی کسی پر فقرے کسیں۔ انہیں سمجھائیں کہ یہ چیزیں کسی کو ہراساں کرنے کے زمرے میں آتی ہیں۔انہیں ان سے دور رہنا چاہیے۔


⬅️ احساس ذمہ داری اور خودداری


اپنے بیٹوں کو روزانہ اتنا جیب خرچ اور سکول لنچ ضرور دیں کہ وہ دوستوں کے مرہون منت نہ ہوں۔ اگر ان کے چھوٹے بہن بھائی ہوں تو انہیں ان پر خرچ کرنا سکھائیں۔ اگر نہ ہوں تو کسی رفاہی ادارے میں کچھ پیسے دینا سکھائیں۔ انہیں مانگنے والا نہیں بلکہ آگے بڑھ کر مدد کرنے والا بنائیں۔اس کے لئے آپ کا خود بھی اس لے لئے رول ماڈل بننا اہم ہے۔


ان کے دوستوں پر نظر رکھیں ۔ انہیں کے بارے میں بات کیا کریں۔ انہیں ایسے سکول میں مت ڈالیں جہاں آپ کی استطاعت سے بہت زیادہ امیر گھروں کے بچے جاتے ہوں۔ اپنے جیسے بچوں سے دوستی رکھیں۔ 

انہیں تھوڑا بہت کھانا بنانا بھی سکھانا شروع کریں ۔ جیسے سینڈوچ، چائے ، انڈہ ابالنا یا کھانا رکھنے میں مدد کرنا۔ اگر گھر میں بیٹیاں بھی ہیں تو ان میں اور بیٹوں میں فرق نہ کریں۔ بیٹوں کی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی بیٹیوں کی۔ 


اگر آپ کو لگے کہ آپ اپنے بیٹے سے کوئی بات نہیں کر پا رہے یا آپ کے بیٹے کو کسی ڈاکٹر سے ڈائریکٹ بات چیت یا مشورے کی ضرورت ہے تو کوشش کریں کہ اسے اتنا اعتماد دیں کہ وہ آپ سے کھل کے بات خر سکے، سوال پوچھ سکے ۔ اسے کچھ اعتماد والے لوگوں یا استادوں کا بتائیں۔ آپ ہمارے پیج انباکس کا بھی بتا سکتے ہیں یا ای-میل ایڈریس دے سکتے ہیں جہاں وہ ڈائریکٹ سوال پوچھ سکتے ہیں۔


اس معلومات کو دوسروں کے سا


تھ بھی شیئر کریں ۔ شاید کوئی بات کسی کے کام آ جائے۔


جزاک اللہ

No comments:

Post a Comment

‏کہ اپ اپنے بچوں کو یوٹیوب کے اوپر غیر اخلاقی ویڈیو سے بچانا چاہتے ہیں

  ‏کہ اپ اپنے بچوں کو یوٹیوب کے اوپر غیر اخلاقی ویڈیو سے بچانا چاہتے ہیں   ہم اپ کو یوٹیوب ایپلیکیشن YouTube appکے حوالے سے ایسی خفیہ سیکرٹ...